گوکرن:26؍ جنوری(ایس اؤ نیوز )ہم اپنے ذہنوں میں تبدیلی لاتےہوئے تفریق، نفرت اور دشمنی کے جذبات کو ختم کرتےہوئے معاشرے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ساتھ زندگی بسر کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ سورب تعلقہ کے سنستھان جڑے ، مرگھا مٹھ کے ڈاکٹر مہانت مہاسوامی جی نے ان خیالات کا اظہار کیا۔
وہ یہاں گنگاولی کی محی الدین جامع مسجد کے سالانہ جلسےکی مناسبت سے منعقدہ ’سروا دھرم سمیلن ‘ میں شرکت کرتےہوئے خطاب کر رہے تھے۔ معاشرے میں جو بھی واقعہ ہوتاہے اس تعلق سے ہم سنجیدگی سے غورکریں ، جلدبازی نہ کریں ، سوچ بچارکے بعد فیصلہ پرپہنچیں۔ تکثیریت میں وحدت کاپیغام دیتےہوئے ملک میں امن ، ہم آہنگی ، بھائی چارگی کے ساتھ زندگی گزارنے کی تلقین کی۔
کرناٹکا مسلم جماعت اور موڈبیدرے المفاز کے پرنسپل پی پی احمد نجافی نے خطاب کرتےہوئے کہاکہ حالیہ دنوں میں مختلف مقامات پر آپسی دشمنی کے واقعات بڑے افسوس ناک ہے۔ لیکن ان معمولی واقعات کو ہندو مسلم فسادات کا نام دے کر مذہب کا غلط استعمال کیاجانا بہت شرمناک ہے۔ اپنے مفادات کے لئے غریب عورتوں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم بنانا بہت افسوسناک ہے۔ کاروار چنڈیا کے سینٹ اولنگلسٹ چرچ کے فادر جان پرکاش راؤنے بھی مذہبی رواداری اور آپسی پیار ومحبت پر روشنی ڈالی۔ گنگاولی کی محی الدین جامع مسجد انتظامیہ کےصدر کے علی ایم مولوی نے جلسہ کی صدارت کی۔ پروگرام میں گنگاماتا مندر کمیٹی کے صدر ناگپا امبیگا ، شانتیکا پرمیشور مندر کے دھرم دھرشی وینکٹ رمن گاؤنکر، ہالکی طبقے کے سُبو گوڈا، نامدھاری سماج کے تکارام نائک، گابیت سماج کے مدن تانڈیل، تاجر شری کانت شانبھاگ، آگیر سماج کے مرکونڈی آگیر، پڈتی سماج کے راجو پڈتی ، کھاروی سماج ماروتی تانڈیل ، موظف استاد دتاتریہ بھٹ، گوکرن کے فادر لارنس سمیت مختلف طبقات کے معززین شریک تھے۔ محمد حسین نے نظامت کی تو محمد حنیف نے شکریہ اداکیا۔